Costa Romantica Balochistan
Costa Romantica
اٹالیئن کمپنی کوسٹا کروزز کا لگژری جہاز ”کوسٹا رومانٹیکا“ جس کے نام کا مطلب ”رومانوی ساحل“ ہے ، کوسٹا رومانٹیکا نے 1993ء میں باقاعدہ سروس کا آغاز کر دیا اور یہ اپنے وقت کا بہترین لگژری جہاز ہے اور بیسیوں سمندروں کا تیراک ہے۔
اِس کی لمبائی 722 فُٹ، چوڑائی 101 فُٹ، منزلیں 12، سیاحوں کی گنجائش 1600، عملہ 622، رفتار 36 کلومیٹر فی گھنٹہ، اور وزن 53 ہزار ٹن سے کچھ زیادہ ہے۔ اس میں اتنی بجلی پیدا کی جاتی ہے جتنی ایک اوسطاً شہر کو درکار ہوتی ہے۔
چونکہ لگژری جہاز ایک فائیو سٹار ہوٹل سے بھی زیادہ پرتعیش ہوتا ہے اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اِس میں بے تحاشہ رہائشی کیبن ہیں، کئی سو کی تعداد میں۔ مزید یہ کہ ہوٹل کی طرح لاتعداد بالکونیوں والے جدید کمرے، وی آئی پی سویٹس (اپارٹمنٹ سمجھ لیں)، اور اکانومی کلاس کے بنکر کیبنز بھی بہت زیادہ۔
چناچہ کوسٹا رومانٹیکا جہاز میں ہی کئی شاپنگ سینٹرز، کئی ریسٹورینٹس، سپورٹس کلبز، بہت بڑا جِم، لائبریری، وسیع و عریض تھئیٹر، کئی سوئمنگ پولز، بنک، کچھ تعلیمی ادارے، بزنس سینٹرز، اور بہت کچھ ہے۔
یوں سمجھیں کہ سیرینہ ہوٹل، سینٹورس مال، ڈولمین مال، جم خانے، اور اسی قسم کی امراء والی چیزوں کو دبئی کے ماحول میں باریک باریک کاٹ کر سمندر کے حوالے کر دیں۔ تب آپ کا ہوٹل راتوں رات سفر کر کے ایک شہر سے دوسرے شہر، یا ایک ملک سے دوسرے ملک، یا ایک سمندر سے دوسرے سمندر میں سفر کرتا رہتا ہے.. بیٹھے بٹھائے۔
آپ جس بستر میں سوتے ہیں وہ بستر اگلی صبح ایک نئے شہر میں ہوتا ہے....
اگرچہ روئل کیریبیئن کمپنی کے اواسز اوف دی سِیز اور سمفنی اوف دی سِیز وغیرہ اِس وقت دنیا کے سب سے بڑے جہاز ہیں اور اُن کی کم از کم 18 منزلیں ہوتی ہیں۔ مگر یہ تمام جہاز ذرا بعد میں بنے تھے. اِن سے پہلے کوسٹا رومانٹیکا قسم کے جہاز دنیا میں راج کرتے تھے اور ابھی تک کر رہے ہیں۔
ٹائیٹینک فلم دیکھی ہے آپ نے؟ رومانٹیکا جہاز ٹائیٹینک سے چند فُٹ
کم لمبا ہے مگر اُس سے کافی اونچا ہے۔
لیکن اب یہ جہاز گڈانی کے ساحل پہ لنگر انداز ہوئے ذبح ہونے کے مراحل میں ہے ، کہا جارہا ہے کہ پانی کا لیول تھوڑا موافق ہو تو بس مہینے بھر کے اندر اندر اس کی چانپیں و سری پائے کیماڑی و شیرشاہ کی کباڑی مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کی جائے گی ۔
At gaddani beach n ship breaking yard balochistan
My first Visit of chishtian Sharif
Here is complete story of my visit to chishtian Sharif
You can watch it in the form of video..
Chishtian is a tehsil in Bahawalnagar District in the Punjab province. The city of Chishtian was founded by Taj Sarwar Chishti, grandson of Sufi saint Baba Farid-ud-Din Sage Shukar. The mausoleum of spiritual leader Khawaja Noor Muhammad Maharoo is also 700 meters west of the mausoleum of Taj Sarwar Chishti.
Where is the shrine of Khawaja Noor Mad Mahardi?
It is called Par Ani Chishtian. One kilometer away from the old Chishtian (cemetery in the middle) the town of Chishtian was later settled. Its population has exceeded one lakh (100000).
Adam Shogar Mills is located 3 km north of Chishtian city. (When it was built at that time - nearby towns of Dahar Anwala and Mahar Sharif are in Chishtian Tehsil, Bahawalnagar District. Edi Mahar Sharif - Chuck No. 174 Murad Chuck No. Murad 169 Chuck No. Murad 167 - Chuck No. 206 Murad - Chuck 131 Murad
Khaja Noor Muhammad Marwi shrine in chishtian Sharif
history Of khawaja Noor Muhammad Marwi
#خواجہ_نور_محمد_مہاروی_کھرل
14 رمضان 1146ھ کو چشتیاں بہاولنگر کی بستی چوٹالہ مہار شریف میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا اسم گرامی ہندال خاں کھرل اور و الدہ کا نام عاقل خاتون تھا۔ آپ کا سلسلہ چشتیہ ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاﺅں مہار شریف سے حاصل کی پھر تعلیم و تربیت اور فکری و روحانی فیض پانے کے لئے ڈیرہ غازی خاں لاہور اور پھر دہلی تشریف لے گئے اور یہاں پر حضرت خواجہ فخرالدین دھلوی کے مرید ہوئے جو نظام الدین اولیا ؒاور بابا فرید شکر گنجؒ پاکپتن والوں کے مرید تھے۔ اس وجہ سے آپ پاکپتن شریف سے بے حد عقیدت رکھتے تھے اور اس طرح آپ کا سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ سے جا ملتا ہے۔ آپ اکثر جمعة المبارک کیلئے پاکپتن تشریف لے جاتے۔ طبیعت کی ناسازی اور ضعف العمری کی وجہ سے آپ کو شکر گنجؒ کی طرف سے بشارت ہوئی کہ پرانی چشتیاں میں میرے پوتے بابا تاج سرور مدفون ہیں وہاں پر جمعة المبارک کی ادائیگی کیا کرو۔ بعد ازاں آپ نے اس درگاہ مبارکہ پر باقاعدہ حاضری دینا شروع کی اور باقی زندگی یہیں گزار دی۔
آپ کی اولاد مبارکہ میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ آپ مادر زاد ولی تھے۔ ایک روایت ہے کہ ایک فقیر نے والدہ محترمہ کو دیکھ کر کہا کہ دختر نیک اختر کے پہلو میں لال چھپا ہے۔ ایک اور بزرگ نے آپ کی والدہ محترمہ کو دیکھ کر فرمایا اور تعزیم کیلئے کھڑے ہو گئے کہ زمانہ قطب اور آفتاب جہاں تمہاری پیشانی میں جلوہ گر ہے۔ آپ کے کشف و روحانیت کا سلسلہ ملک کے گوشہ گوشہ میں پھیلا ہوا ہے۔ آپ کے خلیفہ اول شاہ سلیمان تونسوی تھے۔ جن پر آپ انتہائی محبت اور شفقت فرماتے تھے۔ ایک روایت ہے کہ ایک شخص آپ سے بیعت ہونے کیلئے حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تم بڑی دیر سے آئے ہو کہ دودھ کی بالائی تو پیر پٹھان کھا گیا۔ یعنی میری فقیری، کشف اور روحانیت کا زیادہ حصہ شاہ سلیمان تونسوی لے گئے ہیں، باقی لسی رہ گئی ہے۔
آپ کے خلفاءمیں حضرت غلام فرید چاچڑاں شریف کوٹ مٹھن والے جن کی کافیاں دل موہ لیتی ہیں۔ نواب آف بہاولپور، محمد بھاول خا ثانی کو بھی آپ سے والہانہ عقیدت تھی جو آپ کی بیعت بھی ہوئے۔ یہ سلسلہ حضرت خواجہ غلام رسول توگیری، خواجہ نور محمد نکی مانیکا حضرت خواجہ عبدالکریم نوری، منڈی صادق گنج اور حضرت خواجہ خدا بخش خیر پور ٹامے والی تک جاتا ہے۔
قبلہ عالم کا وصال 1205ھ میں ہوا اورہر سال یکم تا تین ذوالحج آپ کا عرس مبارک بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے۔دربار عالیہ پر تمام رسومات کی سرپرستی حضرت خواجہ غلام معین الدین مہاروی سجادہ نشین کر تے ہیں۔ اس مرتبہ بھی عرس کا آغاز محفل حمد و نعت سے شروع ہوا۔ سلسلہ چشتیہ سے منسلک تمام سجادگان محفل میں شریک ہوئے اور مزار اقدس پر حاضری دی۔ عرس مبارک اپنے روایتی انداز میں جاری و ساری ہے۔ بڑی تعداد میں آپ کے عقیدت مند مزار شریف پر حاضری دیں گے۔ تین ذوالحج کو چراغاں کی رات ہو گی اور آخر میں اجتماعی دعا ہو گی۔
The Dangerous Place of Balochistan
Dangerous Place Of Balochistan
A few months ago, I visited Quetta and its surrounding areas. All of this is based on my personal thinking, so I don't think it's necessary for you to agree. The people of Balochistan are almost very nice and hospitable. But there are some areas where Punjabi is especially hated. It is considered very strange for a Punjabi to go there so I want you to be well acquainted with these areas and avoid going there.The Murree camp in this area is close to Hazar Ganji. Most of the people in this area are Afghan refugees. This is what the locals told me and they do not allow any strangers to come around their houses. Even the military is very careful here so it would be better if you stay away from the areas of Murree Camp Hazarganj.
if you want to know more about my trip then click on link and watch my video and please don't forget to subscribe my channel here is the link
Kalash valley history
کیلاش ضرور جائیں -
کیلاشی لوگ تین ہزار سال پرانے ہیں، یہ اینم ازم (Animism) کے ماننے والے ہیں، ان کا خیال ہے دنیا کی ہر چیز بشمول الفاظ کی ایک روح ہوتی ہے اور یہ جب تک ان کے اندر موجود رہتی ہے یہ زندہ رہتے ہیں اور جب یہ مر جاتی ہے تو پھر پتھر ہوں، لفظ ہوں یا پھر پودے، جانور اور انسان یہ فوت ہو جاتے ہیں، کیلاشی بارہ خدائوں کو مانتے ہیں، عورتیں مذہبی عبادت گاہوں میں داخل نہیں ہو سکتیں۔
یہ واش روم اور نہانے کے لیے گائوں سے باہر ندی پر جاتی ہیں، ں
انتقال کو وصال اور دوسری زندگی سمجھتے ہیں چناں چہ یہ انتقال پر ڈھول اور بانسری بجاتے ہیں اور مردے کو باقاعدہ رقص کرتے ہوئے قبرستان لے کر جاتے ہیں، یہ تابوت زمین پر رکھتے ہیں اور اس کا ڈھکن کھول دیتے ہیں، مردے کا گوشت جانور، پرندے اور کیڑے کھا جاتے ہیں اور ہڈیاں پیچھے رہ جاتی ہیں، مردے کی چارپائی، لباس اور برتن بھی تابوت کے پاس رکھ دیے جاتے ہیں۔
کیلاشی لوگوں کا مرکزی قبرستان بمبوریت میں ہے، ہمارے گروپ نے وہاں وزٹ کیا اور اپنی آنکھوں سے تابوت اور ان میں ہڈیاں دیکھیں، یہ اب مُردوں کو دفن بھی کرنے لگے ہیں تاہم مرگ پرڈھول اور ناچنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے، کیلاشی خوشی میں تین تین کی ٹولیوں میں ناچتے ہیں جب کہ غم میں دو دو کیلاشی ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈال کر رقص کرتے ہیں، شادی کے لیے لڑکا لڑکی کو بھگا کر لے جاتا ہے۔
شادی شدہ خواتین بھی دوسروں کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں لیکن یہ اس کے بعد ایک دوسرے سے لڑتے نہیں ہیں، بزرگ اکٹھے بیٹھ کر شادی کی اجازت دے دیتے ہیں تاہم اگر لڑکی شادی شدہ ہو تو نئے خاوند کو پرانے خاوند کو ڈبل جہیز دینا پڑتا ہے، خواتین کو خاص ایام میں ناپاک تصور کرتے ہیں اور انھیں پانچ دنوں کے لیے ایک احاطے میں چھوڑ آتے ہیں، احاطہ بشالینی کہلاتا ہے، کیلاشی لوگ بشالینی کی دیوار اور دروازے کو ہاتھ لگانا گناہ سمجھتے ہیں، ہم نے بمبوریت میں بشالینی بھی دیکھی اور اس میں بند خواتین بھی، خواتین رنگ برنگے فراک نما کپڑے پہنتی ہیں، ان پر سپیاں اور مختلف رنگوں کی لیس لگاتی ہیں، سر پر لمبے پھندے والی کیلاشی ٹوپی پہنتی ہیں۔
مذہبی رہنما قاضی کہلاتا ہے اور اس کا فرمایا ہوا حرف آخر ہوتا ہے، تہوار چار ہیں اور یہ چاروں موسموں کے شروع میں منائے جاتے ہیں، کیلاشی اس میں کھل کر رقص کرتے ہیں، اپنی شراب بناتے ہیں اور سب مل کر پیتے ہیں، جانوروں کی قربانی بھی کرتے ہیں اور ان کے مذہب میں جھوٹ، فریب اور دھوکا ناقابل معافی جرائم ہیں، یہ ممکن نہیں کوئی کیلاشی کسی کو دھوکا دے، جھوٹ بولے یا پھر فریب کاری کرے لہٰذا یہ کام کیلاش میں موجود مسلمانوں کو کرنا پڑتے ہیں۔
کیلاشی لوگ علاقے کے قدیم ترین باشندے ہیں، یہ کوہ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کی مختلف وادیوں میں آباد رہے، بھوٹان اور نیپال تک کیلاشی الفاظ اور روایات موجود ہیں، 327 قبل مسیح میں سکندر اعظم ہندوستان میں داخل ہوا تو اس کے چند درجن فوجیوں اور جرنیلوں نے آگے جانے سے انکار کر دیا، یہ لوگ افغانستان اور آج کے پاکستان کی سرحد پررہ گئے یوں یونانی خون کیلاشی لوگوں میں شامل ہوا اور ایک نئی نسل نے جنم لے لیا، ہم اسے یورو کیلاشی بریڈ کہہ سکتے ہیں، یونانیوں نے کیلاشیوں کو لشکر بنانا، لڑنا اور قبضہ کرنا سکھایا اور یہ آہستہ آہستہ افغانستان کے صوبے نورستان، دیر اور چترال پر قابض ہوتے چلے گئے۔
کیلاشی محمود غزنوی تک پورے علاقے پر حکمران رہے لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کا اقتدار کم زور پڑتا چلا گیا یہاں تک کہ 1320 میں افغانستان کے مسلم قبائل نے چترال پر حملہ کر کے کیلاشی لوگوں کو نابود کر دیا، نوے فیصد کیلاشی ان جنگوں میں مارے گئے، صرف دس فیصد بچے اوروہ آج کی کیلاش وادی اور افغانستان کے صوبے نورستان کے پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
نورستان انیسویں صدی کے آخر تک کیلاشی لوگوں کی وجہ سے کافرستان کہلاتا تھا، افغانوں اور ازبکوں نے 1895 میں کافرستان پر حملہ کیا، ساری کیلاشی آبادی کو زبردستی مسلمان بنایا اور کافرستان کا نام بدل کر نورستان رکھ دیا، نورستان کی سرحد بمبوریت سے ملتی ہے، لوگ آج بھی کیلاش سے افغانستان اور افغانستان سے پیدل کیلاش آتے ہیں، ہمارے ہوٹل سے نورستان کی پہاڑیاں اور گلیشیئرز صاف نظر آتے تھے۔
نورستان کے کیلاشی مسلمان ہو گئے یا قتل کر دیے گئے تاہم کیلاش کی وادی محفوظ رہی، اس کی وجہ اس کا جغرافیہ تھا، یہ ایک دشوار گزار علاقہ ہے جس تک دنیا کی رسائی نہیں تھی چناں چہ دنیا کیلاش اور کیلاش دنیا سے ناواقف رہا، انگریزوں نے 1940 میں انھیں ڈسکور کیا اور یوں دنیا ان عجیب وغریب اور حیران کن لوگوں سے متعارف ہوئی، یہ لوگ اس کے بعد بھی باہر جاتے تھے اور نہ کسی کو کیلاش آنے دیتے تھے مگر پھر وقت کے ساتھ تبدیلی آتی رہی۔
سیاح خچروں، گھوڑوں اور جیپوں پر یہاں پہنچتے رہے اور آہستہ آہستہ دنیا نے انھیں اور انھوں نے دنیا کو قبول کر لیا لیکن اس سیاحتی آمدورفت کے دوران کیلاشی لوگوں کا کلچر اور روایات متاثر ہونے لگیں، یہ لوگ دوسرے علاقوں اور ملکوں میں بھی آباد ہونے لگے اور لوگ بھی یہاں دھڑا دھڑ پہنچنے لگے یوں یہ آج سکڑتے سکڑتے صرف چار ہزار رہ گئے ہیں، ماہرین کا خیال ہے اگر مذہب کی تبدیلی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو کیلاشی لوگ اگلے 20 برسوں میں صرف کتابوں، عجائب گھروں اور فلموں میں رہ جائیں گے۔
کیلاش کی وادی خشک بنجر پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے، درمیان سے دریا اور سائیڈز سے ندیاں گزرتی ہیں، علاقے میں اخروٹ، ناشپاتی، سیب، خوبانی اور شہتوت کے درخت ہیں، سرخ انگور بھی بے تحاشا پیدا ہوتا ہے، علاقے میں بکریاں اور بھیڑیں بھی ہیں، یہ لوگ مکئی اور باجرہ بھی اگاتے ہیں تاہم یہ گندم چترال سے خریدتے ہیں، خوبانی اور اخروٹ کے آٹے کی انتہائی لذیذ روٹی پکاتے ہیں اور بکری کے دودھ کے پنیر کے ساتھ کھاتے ہیں، دالوں کا سوپ بناتے ہیں اور بکری اور بھیڑ کے گوشت کا دم پخت پکاتے ہیں۔
خوبانی، ناشپاتی اور شہتوت سکھاتے ہیں اور سردیوں میں یہ کھاتے بھی ہیں اور ان کا سالن بھی بناتے ہیں، کھانوں میں مرچ بالکل استعمال نہیں کرتے، عورتیں اور مرد دیسی شراب پیتے ہیں لیکن یہ اب شکوہ کرتے ہیں جب سے لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان کے لوگوں نے کیلاش آنا شروع کیا ان کی شراب کم پڑ جاتی ہے، یہ پیاسے رہ جاتے ہیں جب کہ مہمان گلیوں میں جھومتے رہتے ہیں، خواتین میں حیاء اور سادگی ہے، یہ بااعتماد اور تگڑی بھی ہیں۔
، یہ بھیک نہیں مانگتے لیکن اگر انھیں کھانے کا سامان یا پیسے دیے جائیں تو یہ شکریے کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں، ملاقات کے وقت ایک دوسرے کے ہاتھ چومتے ہیں، دوسروں کے مذہب کا احترام کرتے ہیں اوردوسروں سے اپنے مذہب کے احترام کی توقع رکھتے ہیں لیکن ان کی یہ توقع پوری نہیں ہوتی۔
یونان کے چند والنٹیئرز ہر سال یہاں آتے ہیں اور کمیونٹی کی خدمت کرتے ہیں، یونانی والنٹیئر زنے یہاں انتہائی خوب صورت میوزیم بھی بنایا اور اسکول بھی قائم کیے، یہ حکومت پاکستان کے بجائے ان لوگوں کے زیادہ احسان مند ہیں۔
ایک کمرے کی سب سے کم قیمت 700 سے 1000 ہے
18 کلومیٹر کا راستہ خاص طور پر کاروں کے لیے کافی مشکل
ہے لیکن چترال روڈ بہت خوبصورت ہے
آپ ٹیکسی کے ذریعے بھی جا سکتے ہیں جو وہاں دستیاب ہے تمام مقامی لوگ ٹیکسی کے ذریعے جاتے ہیں
ویلی کا راستہ چترال سے 20 کلومیٹر پہلے مر جاتا ہے اس کے بعد آپ 18 کلومیٹر کچی سڑک کا سفر کریں گے
کیلاش کا سفر بہت دشوار گزار ہے لیکن میں اس کے باوجود مشورہ دوں گا آپ نے اگر کیلاش نہیں دیکھا تو زندگی میں کم از کم ایک بار وہاں ضرور جائیں، یہ تجربہ حقیقتاً آپ کی زندگی کا انوکھا اور یادگار تجربہ ہو گا، آپ پوری زندگی کیلاش کو یاد رکھیں گے
Ziarat city tour guide PDF download
Ziarat city tour guide #PDF in urdu Download
Click on the link to download the PDF file
Download PDF file
Thanks for visiting
Kindly visit my YouTube channel
https://youtube.com/c/ShabirJaniofficial
Subscribe to:
Posts (Atom)